کھلاڑیوں کا اعتماد بھی جھاگ بن کر بیٹھ گیا، بولنگ نہ ہی بیٹنگ میں کوئی خاص بات نظر آ رہی ہے

اگر آپ ایک میچ میں چارکیچز ڈراپ کریں، حریف بیٹسمین کو بولڈ کرنے کے بعد عجیب وغریب انداز میں جشن منائیں اور پھر پتا چلے کہ وہ نو بال تھی، پھر امپائر کے غلط فیصلے پر بھی ریویو کی جرات نہ کر سکیں تو سمجھ جائیں آپ کا ٹائم اچھا نہیں چل رہا، پھر بیٹنگ میں صفر پر اپنے اہم ترین بیٹسمین کی خدمات سے محروم ہو جائیں اور آخری اوور میں ہانپتے کانپتے بمشکل ہدف تک پہنچیں تو اسے
معجزہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔


یہ درست ہے کہ افغانستان کی ٹیم نے حالیہ عرصے میں اپنی کارکردگی بہت بہتر بنالی لیکن پھر بھی ابھی وہ اس قابل نہیں ہوئی کہ پاکستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے،مگر بدقسمتی سے ایسا ہوگیا، اگر شعیب ملک آخر میں ذمہ دارانہ اننگز نہ کھیلتے تو انہونی ہونی میں بدل جاتی، بھارت کیخلاف پہلے میچ سے قبل ہمارے یہی کھلاڑی اتنے پُراعتماد تھے کہ سوشل میڈیا پر شیو تک کرنے کی پروموشنل ویڈیوز شیئر ہو رہی تھیں، بیچارہ احمد شہزاد سیلفیز کے معاملے میں بدنام تھا بعض موجودہ کھلاڑی تو اس سے بھی آگے نکل گئے۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متواتر فتوحات نے کھلاڑیوں کے اعتماد کو حد سے زیادہ بڑھا دیا اور ان کی کھیل پر سے توجہ ہٹ گئی ہے، بدقسمتی سے ٹیم منیجمنٹ نے بھی انھیں کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی، زیادہ تر ویسے ہی کسی نہ کسی کی سفارش پر ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اس لیے اپنی پوزیشن سنبھالنے کی ہی فکر ہے،بھارت کیخلاف عبرتناک شکست اور افغانستان پر بمشکل فتح سے واضح ہوگیا کہ فیلڈ میں معاملات اتنے اچھے نہیں چل رہے۔
کھلاڑیوں کا اعتماد بھی جھاگ بن کر بیٹھ گیا، بولنگ نہ ہی بیٹنگ میں کوئی خاص بات نظر آ رہی ہے، فیلڈنگ میں بہتری کا ہمیں بہت زعم تھا لیکن ایشیا کپ کے دوران اس شعبے میں بھی تاحال کارکردگی مایوس کن ہے، کہنے کو تو ابھی ایک ہی شکست ہوئی لیکن اگر دیکھا جائے تو رواں برس ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ہماری کارکردگی اتنی خاص نہیں رہی، نیوزی لینڈ کے دورے میں پانچوں میچز ہار گئے، پھر زمبابوے کی کلب لیول کی ٹیم کو پانچوں میچز میں شکست دے کرخوش فہمیوں کے پہاڑ کھڑے کر لیے۔
اب ایشیا کپ میں افغانستان جیسے حریف بھی پریشان کر رہے ہیں، اس قسم کی پرفارمنس سے ورلڈ کپ نہیں جیتا جا سکتا، حالیہ ایونٹ کو دیکھ کر ایک بات واضح ہو گئی کہ ٹیم میں تجربے کی کمی ہے، ’’ انزی دی لیجنڈ‘‘ (چیف سلیکٹر نے اپنے ٹویٹراکائونٹ پر یہی نام لکھا ہے) نے ٹیم سلیکشن میں من مانیاں کیں، کوچ مکی آرتھر کو بھی سینئرز پسند نہیں لہذا ایک ایک کر کے انھیں باہر کیا جاتا رہا۔
حفیظ نے میڈیا کو گزشتہ دنوں جس طرح استعمال کیا وہ الگ بحث ہے لیکن ایشیا کپ میں ان کی کمی محسوس ہو رہی ہے، اسی طرح ہم نے سست بیٹنگ کا لیبل لگا کر اظہر علی کو ون ڈے سے ڈراپ کر دیا، ذرا یہ بتائیں کہ امام الحق کون سا شاہدآفریدی یا ایڈم گلکرسٹ کی طرح بیٹنگ کر رہے ہیں، یہ درست ہے کہ انھوں نے بعض اچھی اننگز کھیلیں مگر وہ سیٹ ہونے میں ٹائم لیتے ہیں یہی اظہر بھی کرتے تھے۔
آپ چیمپئنز ٹرافی کی فتح میں بھی دونوں سینئر بیٹسمینوں حفیظ اور اظہر کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر سکتے، ان کا تجربہ آگے ورلڈکپ میں بھی کام آ سکتا ہے،’’انزی دی لیجنڈ‘‘ کو اس بارے میں یقیناً سوچنا ہوگا،کپتان سرفراز احمد اپنی بیٹنگ فارم کی وجہ سے ان دنوں بیحد پریشان ہیں، ان کو اس پوسٹ پر دیکھنا بعض لوگوں کو شروع سے ہی کھٹک رہا تھا، وہ تلواریں تیز کیے بیٹھے رہے لیکن چونکہ ٹیم جیت رہی تھی اس لیے وار کا موقع نہیں ملا، اب بھارت سے ہارتے ہی سب تنقیدی نشتر برسانا شروع بھی ہو گئے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کپتانوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے، وہ ٹیم کے لیے اتنا سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ انفرادی کارکردگی پر توجہ نہیں رہتی، پھر جب شکست ہو تو وہ اپنے کھیل پر ہدف تنقید بن جاتے ہیں، سرفراز کو بھی سوچنا ہو گا کہ اپنی بیٹنگ پر زیادہ توجہ ضروری ہے، پرفارم نہ کیا تو مخالفین کو موقع مل جائے گا، وہ یہ بھول جائیں گے کہ ماضی میں کیسا پرفارم کیا۔
ویسے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان دنوں باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے،پہلے کامران اکمل کا شوشا چھوڑا گیا اب شعیب ملک کو نائب کپتان بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں، اس سے دبائو کے شکار کپتان مزید مشکلات میں گھر جائیں گے، انھیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، اگر کوئی متبادل وکٹ کیپر لانا ہے تو کسی نوجوان کو لائیں جو گروم ہو سکے کامران کا وقت گذر چکا۔
اسی طرح نائب کپتان بھی فخرزمان جیسے کسی کھلاڑی کو بنائیں جس کا کوئی مستقبل تو ہو، شعیب خود اعلان کر چکے کہ ورلڈکپ کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے ایسے میں انھیں کوئی پوسٹ سونپنے کا کیا فائدہ ہوگا۔
بدقسمتی سے ایشیا کپ میں ہم ماضی والی کرکٹ کھیل رہے ہیں، شروع میں وکٹ گرنے کے بعد سست بیٹنگ ہوتی ہے جس سے بعد میں آنے والے بیٹسمینوں پر دبائو بڑھ جاتا ہے، یہ سوچ تبدیل کرنا ہوگی مثبت انداز سے کھیلتے رہیں، سارے میچز زمبابوے میں تھوڑی کھیلنے ہیں، مضبوط بولنگ و مختلف پچز کا بھی سامنا کرنا ہوگا، بولرز کو بھی ذمہ داری لینی چاہیے، شکر ہے ٹیم منیجمنٹ کو کچھ عقل آئی اور لاڈلے عامر کو ڈراپ کر ہی دیا۔
آصف علی بھی اب تک کمزور کڑی ثابت ہو رہے ہیں، ان کی جگہ بھی کسی اور کو موقع دینا چاہیے،امام الحق کو زمبابوے، سری لنکا اور افغانستان کے سوا اب بڑی ٹیموں کیخلاف بھی پرفارم کرنا ہوگا، فخر زمان کی فارم نجانے کہاں کھو گئی، اگر ہمیں ایشیا کپ جیتنا ہے تو اوپنر سے بڑی اننگز درکار ہوگی، شعیب ملک نے افغانستان کے خلاف میچ وننگ اننگز کھیل کراپنی افادیت ثابت کر دی، اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ٹیم کیلیے تجربہ کار پلیئرز کتنے ضروری ہیں۔
عثمان خان کو کارکردگی میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے، حسن علی بھی بولنگ بہتر بنائیں ورنہ منفرد جشن منانے کے زیادہ مواقع نہیں ملیں گے،شاہین شاہ آفریدی نے ڈیبیو پر اچھی بولنگ کی مگر بدقسمت رہے کہ ان کی بولنگ پر تین کیچز ڈراپ ہوئے، فیلڈنگ میں پرانی بیماری کو دوبارہ مکمل سر اٹھانے سے قبل ہی ختم کرنا ہوگا۔ گزشتہ میچ میں محمد نواز کی بہترین بولنگ نے اس سے قبل کے میچز میں چار پیسرز کھلانے کا فیصلہ غلط ثابت کر دیا۔
ٹیم مینجمنٹ کو سلیکشن کے حوالے سے بھی زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ابتدائی میچز میں ہی پاکستان ٹیم کے مسائل اجاگر ہو گئے، ان سے سبق سیکھتے ہوئے ٹائٹل جیتنے کا اب بھی اچھا موقع موجود ہے، جتنی جلدی ہم نے خامیاں دور کیں اتنا ہی فائدہ ہوگا، ورنہ کپتان بدل دو تحریک مزید زور پکڑ جائے گی اور ٹیم کی ایسی کارکردگی میں چاہے کسی کو بھی کپتان بنا دیں آئندہ سال ورلڈکپ جیتنے کا خواب سراب ہی ثابت ہوگا۔

No comments

Powered by Blogger.